نئی دہلی،10فروری (آئی این ایس انڈیا)
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے پیر کو دعوی کیا کہ بے روزگاری مسلسل بڑھنے اور کھپت کم ہونے سے ملک کے سامنے معاشی بحران بڑھ رہا ہے۔ ایوان بالا میں 2020-21 کے لئے مرکزی بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر چدمبرم نے حکومت کو غیر فعال ڈاکٹر بتایا اورکہاکہ ملک میں خوف اور بے یقینی کا ماحول ہے، ایسے میں کوئی سرمایہ کاری کیوں کرے گا۔نوٹ بندی کو بڑی بھول قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے کہا کہ حکومت اپنی غلطیاں ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جلدبازی، بغیر کسی تیاری کے مال اور سروس ٹیکس کو لاگو کر دینا دوسری بڑی بھول تھی،اس کی وجہ سے آج معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ میں نے وزیر خزانہ کی مکمل بجٹ تقریر سنی تھی جو 116 منٹ تک چلی تھی۔اس بات کی خوشی ہوئی کہ انہوں نے پورے بجٹ تقریر میں ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ اچھے دن آنے والے ہیں،وہ کھوکھلے وعدے بھول گئیں، یہ اچھا رہا۔ چدمبرم نے کہا کہ حکومت مسلسل مسترد کرتے رہی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ معیشت کی حالت بہت بری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح مسلسل کم ہوئی ہے، پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے اور کھپت مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کے سامنے معنی بحران بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ مسئلہ عارضی ہے لیکن اقتصادی مشیر کا خیال ہے کہ بنیادی ڈھانچہ مسئلہ زیادہ ہے،دونوں ہی حالات میں حل مختلف ہوگا،مگر پہلے سے طے ذہنیت کے سبب آپ قبول ہی نہیں کرنا چاہتے کہ اقتصادی حالات بدتر ہیں۔